دہلی فسادات کی ’بڑی سازش‘ معاملے میں شرجیل امام کو عبوری ضمانت

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 10, 2026359 Views


دہلی کی ایک عدالت نے شرجیل امام کو اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے 20 مارچ سے 30 مارچ تک دس دنوں کی عبوری ضمانت دی ہے۔ جنوری 2020 میں بہار کے جہان آباد میں ان کے گھر سے گرفتاری کے بعد پہلی بار امام کو ضمانت ملی ہے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے شمال-مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ ’بڑی سازش‘ سے متعلق ایک معاملے میں سوموار (9 مارچ) کو شرجیل امام کو عبوری ضمانت دے دی۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، کڑکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے انہیں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی۔ امام کو 20 مارچ سے 30 مارچ تک دس دن کے لیے عبوری ضمانت دی گئی ہے۔

امام کو پہلی بار ضمانت ملی ہے۔ انہیں 28 جنوری 2020 کو بہار کے جہان آباد میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔

دہلی پولیس نے الزام لگایا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاقے میں امام کی تقریریں اشتعال انگیز تھیں۔

ان کی تقریر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کی تھی۔ چند ہی دنوں میں اتر پردیش، دہلی، آسام، اروناچل پردیش اور منی پور میں ان کے خلاف پانچ ایف آئی آر درج کی گئیں۔ جب انہوں نے خودسپردگی کی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اپنی عرضی میں امام نے چھ ہفتے کی عبوری ضمانت مانگی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے چھوٹے بھائی کی شادی کی تقریبات 22 مارچ سے شروع ہو کر 28 مارچ تک چلیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ان کی والدہ کی صحت کافی خراب ہو گئی ہے، اس لیے وہ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے بھی راحت چاہتے ہیں۔

استغاثہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ شادی میں امام کی موجودگی لازمی نہیں ہے اور تقریب کا انتظام خاندان کے دیگر افراد کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی والدہ کی حالت جان لیوا نہیں ہے اور چھ ہفتے کی ضمانت غیر ضروری ہے؛ چھ دنوں سے زیادہ کی راحت نہیں دی جانی چاہیے۔

تاہم، عدالت نے دس دن کی عبوری ضمانت دیتے ہوئے کئی شرائط عائد کیں۔ ان میں یہ شامل ہے کہ امام مقدمے کے کسی گواہ سے رابطہ نہیں کریں گے، اپنا فون آن رکھیں گے، کیس کے بارے میں میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی بیان نہیں دیں گے اور ضمانت کی مدت کے دوران اپنے گھر اور شادی کی تقریبات کے مقامات تک ہی محدود رہیں گے۔

جج باجپئی اس معاملے کی سماعت کر رہے ہیں جس میں 18 افراد – جن میں امام بھی شامل ہیں – پر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019 کے خلاف احتجاج کے دوران دارالحکومت میں تشدد بھڑکانے کی سازش رچنے کا الزام ہے۔

ابھی تک الزامات طے نہیں کیے گئے ہیں اور 18 میں سے 11 ملزم ضمانت پر باہر ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...