
اسی نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے ایک شہری نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بی ایس-4 گاڑیوں کی فروخت کی اجازت سال 2010 سے 2020 کے درمیان دی گئی تھی اور اس نے خود سال 2020 میں بی ایس-4 معیار کی گاڑی خریدی تھی۔ اس کا استدلال تھا کہ اس کی گاڑی محض 5 سال پرانی ہے، اس کے باوجود اس پر مکمل پابندی عائد کرنا غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ جب اس نے گاڑی خریدی تھی تو وہ مکمل طور پر قانونی تھی اور حکومت کی پالیسی کے مطابق رجسٹرڈ کی گئی تھی۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ اچانک اس طرح کی پابندی سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خصوصاً وہ لوگ جو حالیہ برسوں میں بی ایس-4 گاڑیاں خرید چکے ہیں اور نئی بی ایس-6 گاڑی خریدنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔






