
اگرچہ ہوا کی سمت میں معمولی تبدیلی اور رفتار میں کمی سے فضائی معیار میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن یہ راحت سانس لینے کو آسان بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق ہوا کی رفتار 8 کلو میٹر فی گھنٹہ سے کم ہونے پر آلودگی کے عناصر اوپر نہیں اٹھ پاتے ہیں جس کی وجہ سے دھند کی موٹی تہہ بن جاتی ہے۔
حالانکہ آلودگی کو کم کرنے کی کوششوں کے تحت دہلی حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربات بھی کئے جا رہے ہیں مگر وہ اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ چند روز قبل راجدھانی کے میور وہار اور براڑی جیسے علاقوں میں کلاؤڈ سیڈنگ (مصنوعی بارش) کا تجربہ کیا گیا، جس کے بعد پی ایم 10 کی سطح میں 41.9 فیصد تک کمی درج کی گئی۔ اس آپریشن کے بعد کئی علاقوں میں اے کیو آئی میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔






