
انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں خیر سگالی اور دوستی کے جذبے کے تحت طے پایا تھا، لیکن پاکستان نے اس جذبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف جنگیں مسلط کیں اور ہزاروں دہشت گردانہ حملوں کی پشت پناہی کی۔ ان کے مطابق دسیوں ہزار بے گناہ ہندوستانی ان حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔
پی ہریش نے کہا کہ گزشتہ برس پہلگام میں مذہبی بنیاد پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے اس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی برداشت اور فراخ دلی کے باوجود پاکستان کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، جس کے بعد یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔




