
نیتی وادی کے تمک علاقے میں 31 اگست کی رات بادل پھٹنے سے شدید تباہی ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہندوستان اور چین کی سرحد کو جوڑنے والا واحد راستہ بند ہو گیا، جبکہ سرحدی آر سی سی پل بہہ گیا۔ پہاڑ سے بھاری مقدار میں ملبہ بہہ کر ندی میں جا گرا، جس کے باعث ندی کا بہاؤ رک گیا اور پانی جمع ہو کر جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔
حادثے کے بعد ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچیں۔ انہوں نے جھیل کا معائنہ کیا اور پانی کی نکاسی کے انتظامات کیے۔ کچھ دنوں کے بعد پانی کا بہاؤ معمول پر آنے پر انتظامیہ نے علاقے کو محفوظ قرار دے دیا تھا۔ ستمبر کے اوائل میں صورتِ حال قابو میں سمجھی جا رہی تھی لیکن اب جھیل ایک بار پھر پھیلنے لگی ہے۔ پانی کا رنگ نیلا اور شفاف دکھائی دے رہا ہے، تاہم نکاسی کا راستہ تنگ ہونے کے باعث سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔






