
ریزرو بینک نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ سرکولیشن سے باہر کیے جانے کے باوجود دو ہزار روپے کے یہ نوٹ مکمل واپسی تک قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کو اب بھی انہیں تبدیل یا جمع کرانے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، واپسی کی سست رفتار نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر اتنی بڑی رقم اب بھی عوام کے پاس کیوں موجود ہے۔
دو ہزار روپے کے نوٹ دراصل نومبر 2016 میں متعارف کرائے گئے تھے، جب 500 اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کیے گئے تھے۔ بعد ازاں دیگر مالیت کے نوٹوں کی مناسب دستیابی کے بعد ریزرو بینک نے اپنی کلین نوٹ پالیسی کے تحت 19 مئی 2023 کو ان نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔





![[Exclusive] Oppo K13 Turbo, K13 Turbo Pro With Active Cooling to Launch in India in Early August](https://i0.wp.com/thevalleyvision.in/wp-content/uploads/2025/07/oppo_k13_turbo_series_oppo_1753171968213.jpg?resize=150%2C150&ssl=1)
