
موجودہ بحران کا حل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کو اپنی واحد بنیاد تسلیم کرے۔ کسی بھی پائیدار حل کے لیے ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خاص طور پر ایران سمیت تمام فریقین کی جوہری تنصیبات کا تحفظ بنیادی شرط ہے۔ علاوہ ازیں، عالمی قیادت کو تشدد کے فوری خاتمے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کو ترجیح اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنا ہوگا اور عالمی معاشی مفادات کو علاقائی جنگی جنون پر بھینٹ چڑھانے سے روکنا ہوگا۔
جنگ کی انتہائی سنگین صورتحال کے پیشِ نظرسفارت کاری محض ایک آپشن نہیں بلکہ عالمی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اس صورتحال نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ روایتی بیانات سے ہٹ کر ہنگامی سفارتی مداخلت کا راستہ اختیار کریں۔ لہٰذا، سیکرٹری جنرل گوتیرش نے ژاں آرنو کو اپنا ذاتی ایلچی مقرر کیا ہے تاکہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کی براہ راست قیادت کر سکیں۔






