
منگل کے روز جاری کیے گئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں پروازوں کی منسوخی سے 10,46,552 مسافر اور پروازوں میں دو گھنٹے سے زائد تاخیر کے باعث 8,34,453 مسافر متاثر ہوئے۔ ان مسافروں کے معاوضے، کھانے پینے، قیام، رقم کی واپسی اور متبادل پروازوں کے انتظام پر فضائی کمپنیوں نے بالترتیب 24.28 کروڑ اور 4.50 کروڑ روپے خرچ کیے۔ اس کے علاوہ ٹکٹ ہونے کے باوجود 2,050 مسافروں کو بورڈنگ سے روک دیا گیا، جن کے معاوضے اور دیگر سہولیات پر 2.09 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ روزانہ تقریباً 2,300 پروازیں چلانے والی انڈیگو کی دسمبر میں 9.65 فیصد پروازیں منسوخ رہیں، جس سے 9,82,072 مسافر متاثر ہوئے۔ ان مسافروں کو متبادل پروازوں میں جگہ دی گئی یا رقم واپس کی گئی، جس پر کمپنی نے 22.75 کروڑ روپے خرچ کیے۔ اس کے علاوہ انڈیگو کی دو گھنٹے سے زائد تاخیر سے چلنے والی پروازوں سے بھی 6,39,714 مسافر متاثر ہوئے، جنہیں ایئرلائن نے کھانے پینے کی سہولت فراہم کی۔
قابلِ ذکر ہے کہ دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں انڈیگو نے ہزاروں کی تعداد میں پروازیں منسوخ کی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پروازوں میں تاخیر بھی ہوئی۔ یہ بحران پائلٹوں کی ڈیوٹی سے متعلق نئے قواعد کے مطابق روستر کا مناسب انتظام نہ ہو پانے کے باعث پیدا ہوا تھا۔





