دبئی سے ایک ریلیف فلائٹ (امدادی طیارہ) ایف زیڈ 8437 جمعرات کی صبح 4:40 بجے احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گئی۔ اس طیارے میں تقریباً 170 مسافر سوار تھے، جو دبئی میں پھنسے ہوئے تھے اور اب بخیریت ہندوستان لوٹ آئے ہیں۔ موجودہ صورت حال کے پیش نظر اس فلائٹ کو چلایا گیا تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو واپس لایا جا سکے۔ تمام مسافروں کے محفوظ پہنچنے کے بعد ان کے اہل خانہ نے بھی اطمینان کا سانس لیا ہے۔
دبئی سے احمدآباد پہنچنے والے مسافروں نے وہاں کے حالات کے متعلق کئی باتیں شیئر کی ہیں۔ احمدآباد پہنچنے والے ایک مسافر ونود تولانی نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے دبئی میں حالات ایسے بن گئے تھے کہ لگ رہا تھا کہ آئندہ 3 سے 4 دنوں تک کوئی بھی فلائٹ نہیں چلے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ 9 تاریخ تک کی زیادہ تر پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حالات معمول پر آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
ونود تولانی نے مزید کہا کہ حال ہی میں ایران کے حملے کے جو واقعات ہوئے، اس کے بعد ماحول کافی کشیدہ ہو گیا تھا۔ حالانکہ مقامی ایجنسیاں اور فوج صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اسی دوران اچانک کچھ پروازوں کے دوبارہ شروع ہونے کی خبر آئی جو وہاں پھنسے لوگوں کے لیے بڑی راحت کی بات تھی۔ ونود تولانی کے مطابق پرواز شروع ہونے کی خبر جتنی راحت دینے والی تھی، اتنا ہی بڑا سوال ٹکٹ کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے بھی تھا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ونود نے مزید کہا کہ مسافروں کے لیے اتنی مہنگی پرواز لینا مشکل ہو گیا تھا۔ کچھ پروازوں کے ٹکٹ 90-80 ہزار روپے تک پہنچ گئے تھے، جبکہ ایک کی قیمت تو 1.90 لاکھ تک بتائی جا رہی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ زیادہ کرایے میں ایک عام خاندان کے لیے ٹکٹ خریدنا انتہائی مشکل وہ جاتا ہے۔
ونود کے مطابق دبئی ایئرپورٹ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی شہری تھے۔ ایئرپورٹ کے اندر صرف انہی لوگوں کو جانے دیا جا رہا تھا جن کے پاس کنفرم ٹکٹ تھے۔ بقیہ لوگ باہر ہی انتظار کر رہے تھے۔ کئی لوگ گزشتہ کئی دنوں سے وہیں رکے ہوئے تھے اور اپنے گھر لوٹنے کا انتظار کر رہے تھے۔ جو مسافر ایئرپورٹ کے اندر پھنسے ہوئے تھے، انہیں ہوٹل میں ٹھہرنے جیسے کچھ انتظامی سہولیات دی گئی تھیں۔ دوسری جانب جو لوگ ایئرپورٹ کے باہر تھے انہیں ایسی کوئی سہولت نہیں مل پائی۔ کئی لوگ خود ہی انتظام کر کے کسی طرح وقت گزار رہے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
































