داغ دہلوی کی زبان، شائستگی اور اردو غزل کی تہذیبی روایت پر گفتگو

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 17, 2025361 Views


معین شاداب کا کہنا تھا کہ داغ دہلوی نے عشق کے بیان کو شدت کے بجائے تہذیب اور شائستگی عطا کی، جس کے باعث ان کی غزل میں ایک متوازن اور باوقار لہجہ پیدا ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ داغ دہلوی کی شاعری آج کے قاری اور نئے لکھنے والوں کے لیے زبان سیکھنے اور اظہار میں اعتدال قائم رکھنے کی ایک مضبوط مثال ہے۔

نشست میں داغ دہلوی کی مشاعروں میں مقبول پیشکش اور سامع سے ان کے فطری ربط کا بھی ذکر ہوا، جس نے انہیں اپنے عہد کے نمایاں شعرا میں شامل کیا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...