
معین شاداب کا کہنا تھا کہ داغ دہلوی نے عشق کے بیان کو شدت کے بجائے تہذیب اور شائستگی عطا کی، جس کے باعث ان کی غزل میں ایک متوازن اور باوقار لہجہ پیدا ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ داغ دہلوی کی شاعری آج کے قاری اور نئے لکھنے والوں کے لیے زبان سیکھنے اور اظہار میں اعتدال قائم رکھنے کی ایک مضبوط مثال ہے۔
نشست میں داغ دہلوی کی مشاعروں میں مقبول پیشکش اور سامع سے ان کے فطری ربط کا بھی ذکر ہوا، جس نے انہیں اپنے عہد کے نمایاں شعرا میں شامل کیا۔






