
ڈائری میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے اہل خانہ نے ان کے موبائل فون بند کر دئے تھے اور وہ کوریائی ثقافت سے علیحدگی کو برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں کسی آن لائن ٹاسک پر مبنی گیم یا کوریائی محبت کی گیم کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ لڑکیاں سادہ کھیل کھیلتی تھیں، جو پلے اسٹور پر دستیاب ہیں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)





