
آج کی دنیا جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت، خلائی تسخیر اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کے گن گا رہی ہے، وہیں دوسری طرف انسانی حقوق کے حوالے سے ایک ہولناک عالمی پسپائی کا منظر نامہ ابھر رہا ہے۔ تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا اور اسے مضبوط بنانا کے عنوان سے اقوام متحدہ کی 2026 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح خواتین کی آزادیوں کو محدود کرنے، ان کی آواز کو خاموش کرنے اور بغیر کسی سزا کے بدسلوکی کی اجازت دینے کے لیے قوانین کی تشکیل نو کی جا رہی ہے۔
یہ رپورٹ اس تلخ تضاد کو بے نقاب کرتی ہے کہ معاشی اور سائنسی ترقی کے دعووں کے برعکس، خواتین کے بنیادی حقوق میں عالمی سطح پر ایک ایسی تنزلی دیکھی جا رہی ہے جو دہائیوں کی جدوجہد کو ملیا میٹ کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہمارا موجودہ “انصاف کا نظام” واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ اب بھی صرف طاقتور کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔





