خواتین کی غیر متناسب نمائندگی… مدیحہ فصیح

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 15, 2026359 Views


اقوام متحدہ کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی میں خواتین کی کم نمائندگی عالمی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ اس ضمن میں یو این ویمن اور یونیسف نے جامع حکمت عملی اور قیادت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے پر زور  دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

i

user

بین الاقوامی ترقی کے موجودہ فریم ورک میں صنفی مساوات محض ایک بنیادی انسانی حق یا اخلاقی مطالبہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی استحکام، پائیدار اقتصادی ترقی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے حصول کے لیے ایک ناگزیر تزویراتی (اسٹریٹجک) شرط ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور اور پائیدار ترقی کے اہداف کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ صنف کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ کیے بغیر ہم ایک پرامن اور خوشحال دنیا کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل اور اقتصادی سرگرمیوں سے باہر رکھا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے بلکہ ریاستوں کی ترقی کی رفتار اور سماجی ہم آہنگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کا بنیادی مشن صنفی مساوات کو عالمی امن، اقتصادی استحکام اور جمہوری حکمرانی کی ایک ایسی ٹھوس بنیاد کے طور پر تسلیم کرنا ہے جس پر مستقبل کی عالمی عمارت کھڑی ہے۔ تاہم، ان ہمہ گیر مقاصد کی راہ میں موجودہ دور کی سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں خواتین کی غیر متناسب نمائندگی ہے، جو کہ ایک گہرے صنفی فرق کو جنم دے رہی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی میں صنفی فرق

اکیسویں صدی کے پیچیدہ عالمی چیلنجز، جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض، اور سائبر سیکورٹی، ایسے حل طلب مسائل ہیں جن کے لیے دنیا کو اپنی تمام تر انسانی ذہانت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس) وہ کلیدی شعبے ہیں جو مستقبل کی عالمی معیشت اور اختراعات کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر دنیا کی نصف آبادی، یعنی خواتین، ان شعبوں سے دور رہیں گی تو ہم نہ صرف ایک بڑے ٹیلنٹ پول سے محروم ہو جائیں گے بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہماری اجتماعی صلاحیت بھی محدود ہو جائے گی۔

موجودہ اعداد و شمار اس صنفی عدم مساوات کا ایک تشویشناک ڈھانچہ جاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود، تحقیق کے لیے دستیاب وسائل کی عدم دستیابی اور صنفی تعصبات کے نتیجے میں سائنس کے شعبے میں گریجویٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد تک محدود ہے۔ ہائی ٹیک شعبوں میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سائنس میں خواتین کی نمائندگی محض 26 فیصد ہے۔ جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد سمجھے جانے والے شعبے کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں یہ شرح محض 12 فیصد ہے، جو کہ مستقبل کے تکنیکی ڈھانچے میں ایک بڑے صنفی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس صورتحال پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو ان شعبوں سے خارج کرنا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی، صحتِ عامہ اور خلائی سلامتی جیسے سنگین مسائل کے حل کو کمزور بناتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ صرف انفرادی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی “اجتماعی بھلائی” کا سوال ہے۔ اجتماعی بھلائی کے اہم عوامل جیسے قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، آئندہ وباؤں کی روک تھام، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ، اور انسانی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کے لیے خواتین سائنسدانوں کی اختراعی سوچ اور قیادت، طبی تحقیق میں خواتین کی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ میں صنفی نقطہ نظر کو اہمیت اور سائنسی امنگوں کی تکمیل کے ذریعے دنیا کے مستقبل کو زیادہ سے زیادہ انسانی ٹیلنٹ سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

اعداد و شمار اور عالمی قیادت کے بیانات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم محض سطحی تبدیلیوں کے بجائے ایسی مربوط اور پائیدار ترقیاتی حکمتِ عملیوں کی طرف پیش قدمی کریں جہاں صنفی شمولیت نظام کا لازمی حصہ ہو۔

جامع و پائیدار ترقی کے لیے نئے ماڈلز

مستقبل کی ترقی کا انحصار اب محض الگ تھلگ سائنسی ایجادات پر نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کو سماجی علوم اور مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر ہے۔ ایک جامع ترقیاتی ماڈل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) سماجی علوم، سٹیم اور مالیات کے مابین ایک فعال تعلق قائم کریں۔ خواتین اور لڑکیوں کے عالمی یومِ سائنس کے موقع پر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ ان شعبوں کا باہمی ملاپ ہی پائیدار ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس تزویراتی ہم آہنگی کے اثرات درج ذیل صورتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں:

  1. ڈیجیٹل مہارتوں میں صنفی فرق کا خاتمہ: جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور تربیت کے ذریعے خواتین کو مستقبل کی لیبر مارکیٹ کے لیے تیار کرنا۔

  2. خواتین کی قیادت میں اسٹارٹ اپس کا فروغ: مالیاتی اداروں کے تعاون سے خواتین کی اختراعی کاروباری سوچ کو حقیقت میں بدلنا تاکہ معاشی تنوع پیدا ہو۔

  3. صنفی اعتبار سے حساس مصنوعی ذہانت: ایسے الگورتھم کی تیاری جو سماجی علوم کی مدد سے صنفی تعصبات کا خاتمہ کریں اور ٹیکنالوجی کو سب کے لیے منصفانہ بنائیں۔

  4. سماجی شمولیت پر مبنی مالیاتی وسائل: ایسے سرمایہ کاری کے ماڈلز متعارف کروانا جو صنفی برابری اور سماجی بہبود کو اپنی کامیابی کا بنیادی پیمانہ قرار دیں۔

ان ماڈلز کا مقصد ایک ایسا ایکو سسٹم تخلیق کرنا ہے جہاں مالیاتی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سماجی انصاف کے حصول کے لیے استعمال ہوں۔ یہ اسٹریٹجک تبدیلی انفرادی سطح پر رول ماڈلز کی کامیابی اور ادارہ جاتی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

یونیسف کا کردار اور عملی مثالیں

ثقافتی رکاوٹوں اور معاشرتی دقیانوسی تصورات کو توڑنے کے لیے رول ماڈلز اور مضبوط ادارہ جاتی پروگراموں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ کرغیزستان سے تعلق رکھنے والی معروف کیمیا دان اور کاروباری شخصیت عسیل سارتبائیوا اس کی ایک درخشندہ مثال ہیں۔ وہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بائیوٹیکنالوجی کمپنی اینسیلی ٹیک کی شریک بانی اور سی ای او ہیں۔ ان کی تحقیق کا مرکز ویکسین کا حرارتی استحکام ہے، یعنی وہ ایسا حل تلاش کر رہی ہیں جس سے ویکسین کو ریفریجریشن کے بغیر بھی محفوظ رکھا جا سکے، جو دور دراز اور ترقی پذیر علاقوں میں صحتِ عامہ کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔

سارتبائیوا اپنی سائنسی خدمات کے ساتھ ساتھ یونیسف کے ‘گرلز ان سائنس’ پروگرام کی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ ان ثقافتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرتی ہیں جو لڑکیوں کو سائنس سے دور رکھتی ہیں جیسے کہ خاندانی اور پدرانہ رکاوٹیں جہاں بہت سے روایتی معاشروں میں لڑکیوں کے کیریئر کا فیصلہ ان کے والد کرتے ہیں۔

یونیسف کا یہ پروگرام نہ صرف سائنسی تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ لڑکیوں میں خود اعتمادی، ابلاغی مہارتیں اور رہنمائی کے ذریعے ان کی شخصیت سازی بھی کرتا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت ہزاروں لڑکیوں نے اپنے خوف پر قابو پا کر یونیورسٹی کی سطح پر سٹیم کے شعبوں کا انتخاب کیا ہے۔ اگرچہ نچلی سطح پر یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن مجموعی عالمی ڈھانچے کی پائیداری کے لیے عالمی سطح پر سیاسی استحکام اور تعاون ناگزیر ہے۔

’یو این ویمن‘ سے امریکہ کا انخلا

عالمی سطح پر صنفی مساوات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ’یو این ویمن‘ کا ایگزیکٹو بورڈ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کثیر الفریقی تعاون کے اس دور میں امریکہ جیسے بااثر ملک کا اس بورڈ کی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ عالمی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاسی منظر نامے میں خواتین کے حقوق کے خلاف ایک منظم مخالفت اور ‘بیک لیش’دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکہ کا انخلا ایک ’جیو پولیٹیکل خلا‘ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے وہ قوتیں مضبوط ہوں گی جو صنفی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

تاریخی طور پر ’یو این ویمن‘ کے ساتھ امریکی شراکت داری سے صنفی بنیادوں پر بننے والے قوانین، خواتین کی معاشی خود مختاری، امن و سلامتی میں خواتین کا کردار  اور  تشدد کے خاتمےبالخصوص  خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مہمات جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ادارے کا موقف ہے کہ جب حقوق کی مخالفت میں شدت آ رہی ہو، تو کثیر الفریقی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ امریکہ جیسے ممالک کا قائدانہ کردار عالمی سطح پر صنفی مساوات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حیاتی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کی عدم موجودگی سے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کا ایجنڈا کمزور پڑ سکتا ہے۔

مستقبل کا منظر نامہ

اس تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ دنیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنی زیادہ سے زیادہ انسانی صلاحیتوں کو کس طرح اور کتنی تیزی سے بروئے کار لاتے ہیں۔ سٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور میتھ میٹکس) کے شعبوں میں خواتین کا بڑھتا ہوا فرق محض ایک شماریاتی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک بحران ہے جو ہماری مجموعی انسانی ترقی کو پس پشت ڈال سکتا ہے۔ ہمیں ایسے اسٹریٹجک ماڈلز کو اپنانا ہوگا جو ٹیکنالوجی، مالیات اور سماجی انصاف کو ایک مربوط فریم ورک میں ڈھال سکیں۔

’یو این ویمن‘ اقوام عالم کے مابین ایک تعمیری مکالمے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مشترکہ ذمہ داریوں کی بنیاد پر صنفی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو مل کر ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں کسی بھی لڑکی کا سائنسی سفر اس کی جنس کی وجہ سے ختم نہ ہو۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھنے کی خواہش مند ہر لڑکی کے لیے بہت سادہ مگر نہایت طاقتور پیغام یہ ہے کہ ’’ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔‘‘ آپ کی ذہانت، بصیرت اور اختراعی سوچ دنیا کے مستقبل کو ایک نئی اور روشن سمت دے سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...