ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آر) کے بعد آسام میں حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔ اس میں 2.49 کروڑ ووٹرس کے نام ہیں، جو مسودہ ووٹر لسٹ کے مقابلے میں 0.97 فیصد کم ہے۔ آسام کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں کل ووٹرس کی تعداد 2.52 کروڑ تھی جو اب حتمی ووٹر لسٹ میں کم ہو کر 2.49 کروڑ ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حتمی ووٹر لسٹ میں 1.24 کروڑ مرد ووٹرس، 1.24 کروڑ خواتین ووٹرس اور 343 تیسری جنس ووٹرس ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مشترکہ سی ای او نے کہا ہے کہ آسام میں حتمی ووٹر لسٹ جاری ہو گئی ہے۔ آسام کے ووٹرس کی ڈرافٹ لسٹ سے 2.43 لاکھ نام ہٹائے گئے ہیں۔ ایس آئی آر کے تحت آسام میں 61 لاکھ سے زائد گھروں میں جا کر تصدیقی عمل کیا گیا تھا۔ اس میں ہزاروں انتخابی آفیسر، بوتھ لیول آفیسر اور سپروائزر شامل تھے۔ ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں نے 61533 بوتھ لیول ایجنٹ تعینات کیے تھے۔ اس عمل کے بعد ریاست میں 31486 پولنگ مراکز مقرر کیے گئے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ اسمبلی انتخاب کے بعد آسام میں بڑے پیمانے پر سیکورٹی جائزہ لیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے رواں سال مارچ یا اپریل میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے آسام کی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے اور ضلعی سطح کی تیاریوں، حفاظتی انتظامات اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ ہم آہنگی کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ میٹنگ کا انعقاد کیا ہے۔
آسام میں خصوصی نظر ثانی (ایس آر) 22 نومبر سے 20 دسمبر کے درمیان کیا گیا تھا۔ اس میں 1056291 لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے آسام میں ووٹر لسٹ کی تصدیق کا عمل خصوصی نظر ثانی کے نام سے چلایا تھا۔ اس سے قبل جاری ہوئے ڈرافٹ رول کے مطابق آسام میں مجموعی طور پر 25109754 ووٹرس تھے۔ اس میں 93021 ہزار سے زائد ڈی-ووٹرس یعنی مشتبہ ووٹرس شامل نہیں ہیں۔ ووٹر لسٹ میں سے موت، نئی جگہ منتقل ہونے یا ڈپلیکیٹ انٹری ہونے کی وجہ سے 10.56 لاکھ لوگوں کے نام ہٹائے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈی-ووٹرس وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کی شہریت پر حکومت کو شک ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ انہیں فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت خصوصی ٹریبونل طے کیا جاتا ہے اور انہیں ووٹر کارڈ بھی نہیں دیا جاتا۔ ان ڈی-ووٹرس کی معلومات ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں الگ سے شامل کی گئی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































