
حکام کے مطابق پیر کے روز وادی کے مختلف علاقوں میں اچانک احتجاج شروع ہونے کے بعد سے پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ جمعہ کے روز ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے سرینگر سمیت حساس علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکار بھی اہم مقامات پر تعینات ہیں تاکہ کسی بھی بڑے اجتماع کو روکا جا سکے۔
ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز شہری سماج کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم نشست کی تھی جس میں وادی میں معمولات زندگی بحال کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد عمر عبداللہ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ امن برقرار رکھیں اور کسی بھی طرح کے تشدد یا ہنگامہ آرائی سے گریز کریں۔





