
اطلاعات کے مطابق ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچر اب بھی محفوظ ہیں جبکہ بڑی تعداد میں ڈرون فعال حالت میں موجود ہیں۔ یہ صورتحال خطے کے لیے بدستور خطرہ بنی ہوئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے میں جہاں عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی عسکری صلاحیت کو کسی حد تک کمزور کیا ہے، لیکن کئی اہم نظام اب بھی برقرار ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کی میزائل و ڈرون کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم خفیہ ذرائع اس دعوے کو مکمل طور پر درست نہیں مانتے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ایسے لانچر اور پلیٹ فارم موجود ہیں جو کسی بھی وقت حملے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔




