
عوامی دباؤ کے بعد سپریم کورٹ کو بارہا مداخلت کرنی پڑی۔ آخرکار عدالت نے حکم دیا کہ آدھار کو ووٹر لسٹ میں شناختی دستاویز کے طور پر قبول کیا جائے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن کی ہٹ دھرمی کم نہ ہوئی۔
یہی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف ایک منظم عوامی تحریک ہی اس خطرناک کھیل کو روک سکتی ہے۔ بہار کے عوام نے اس سمت میں زبردست جوش دکھایا ہے۔ 9 جولائی کے ’چکّہ جام‘ اور 17 اگست سے یکم ستمبر تک ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ نے ریاست بھر میں بیداری پھیلائی۔
ایس آئی آر کا مقصد صرف بہار نہیں ہے، بلکہ اسے پورے ہندوستان میں لاگو کرنے کی تیاری ہے۔ اس کے ذریعے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ آسام میں این آر سی کے تحت 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ’شہریت سے باہر‘ کر دیا گیا تھا۔ وہاں ’ڈی ووٹر‘ (مشکوک ووٹر) کی الگ قسم بنا دی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں خاندان بنیادی سہولتوں سے محروم ہو گئے۔
اب بہار میں بھی تین لاکھ ووٹروں کو کہا گیا ہے کہ ان کے کاغذات ناکافی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ بڑھا تو ایک مستقل ’ڈی ووٹر‘ طبقہ وجود میں آ سکتا ہے، جس کے پاس نہ ووٹ دینے کا حق ہوگا اور نہ ہی راشن، پنشن، صحت یا رہائش جیسے بنیادی حقوق تک رسائی۔






