
یہ سوال صرف مہاتما گاندھی کے نام کو زندہ رکھنے کا نہیں ہے۔ کوئی بھی عہد ساز شخصیت کسی اسکیم یا ادارے کے نام کی محتاج نہیں ہوتی۔ نام ہٹا دینے سے وہ مٹ نہیں جاتی۔ گاندھی جی کو اپنی زندگی میں اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ وہ امر رہیں۔ یہ بحث محض کام کے حق تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ یہ ہماری بنیاد سے جڑی ہوئی بات ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس نوعیت کا ملک تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟
آزادی کی جدوجہد کے ہیرو کسی نظام کے ماتحت ہونے کے لیے نہیں لڑے تھے۔ وہ بھی تو بالآخر آمریت ہی کی ایک شکل ہوتی۔ ان کی جدوجہد سوراج کے لیے تھی، مکمل خود مختار سوراج کے لیے۔ ایسا سوراج جہاں کسی دوسرے ملک کی حکمرانی نہ ہو، اور نہ ہی کسی ایک مذہب، ذات، خطے، جنس یا طبقے کی بالادستی باقی سب پر مسلط ہو۔ گاندھی کے نزدیک یہی سوراج کی بنیاد تھی۔ ان کے مطابق سوراج گاؤں گاؤں کی شراکت اور اجتماعی شرکت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مرکز میں بیٹھے چند افراد کے ذریعے چلائی جانے والی حکومت دراصل غلامی ہی کی ایک صورت ہے۔






