
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تجارت بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکی معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کپاس کے کاشتکار اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہوں گے اور ان کی معاشی حالت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
جے رام رمیش نے پوسٹ میں ’دی ہندو‘ کے جس خبر کا لنک شیئر کیا ہے اس میں بتایا گیا کہ وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان امریکہ سے خام کپاس خرید کر یہاں اس کی پروسیسنگ کرے اور تیار کپڑا دوبارہ امریکہ برآمد کرے تو ہندوستان کو بھی بنگلہ دیش کی طرح زیرو جوابی ٹیرف کی سہولت مل سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد مختلف کسان تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔





