
پولیس کے مطابق حالات قابو میں رکھنے کے لیے محدود طاقت استعمال کی گئی اور مظاہرین کو شمالی دروازے سے واپس کیمپس میں دھکیل دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے طلبہ کے بارے میں کہا گیا کہ بعض افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہے تھے، اسی لیے انہیں روکا گیا۔
ادھر جواہر لال نہرو یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور حراست میں لیے گئے طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اساتذہ کے ایک وفد نے ایڈیشنل ڈی سی پی سے ملاقات کر کے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی اپیل کی۔
فی الحال جے این یو کے مرکزی دروازے اور وسنت کنج تھانے کے باہر کشیدہ ماحول برقرار ہے اور طلبہ اپنی آئندہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔






