
ریگولیٹر نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا ہے کہ واقعے کی تفصیلات — جیسے جگہ، وقت، طیارے کی قسم، رجسٹریشن، روٹ اور پیش آئے اشارے — فوری طور پر ریکارڈ اور شیئر کی جائیں۔ اس کے ساتھ خرابی کی نوعیت مثلاً جیمنگ، اسپوفنگ، سگنل لاس یا انٹیگریٹی ایرر کی بھی تفصیل دی جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو سسٹم لاگز، اسکرین شاٹس یا فلائٹ مینجمنٹ سسٹم (FMS) کے ڈیٹا سے رپورٹ کی تصدیق کی جائے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حال ہی میں جی پی ایس سگنل میں خلل کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے، جہاں روزانہ 1,500 سے زائد پروازیں آپریٹ ہوتی ہیں۔ ڈی جی سی اے نے کہا ہے کہ یہ واقعہ پروازوں کی نیویگیشن اور آپریشنل سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس لیے سخت نگرانی اور فوری رپورٹنگ ناگزیر ہے۔






