
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 22 ستمبر سے نئے جی ایس ٹی نظام کے تحت صرف دو ہی ٹیکس سلیب ہوں گے- 5 فیصد اور 18 فیصد۔ اس کے ساتھ ہی 12 اور 28 فیصد والے سلیب ختم کر دیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ قدم عام صارفین اور چھوٹے کاروباریوں کو راحت دینے کے لیے ہے مگر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ دیر سے لیا گیا فیصلہ ہے اور حقیقت میں حکومت کی پالیسی ناکامی کا اعتراف ہے۔
راہل گاندھی نے 2016 میں ہی ایک اہم بیان میں کہا تھا کہ جی ایس ٹی چونکہ بالواسطہ ٹیکس ہے، اس لیے یہ امیر اور غریب دونوں پر یکساں بوجھ ڈالتا ہے۔ انہوں نے جی ایس ٹی کونسل سے اپیل کی تھی کہ شرح 18 فیصد یا اس سے کم رکھی جائے تاکہ غریب طبقے پر غیر ضروری دباؤ نہ بڑھے۔ اس وقت بی جے پی اور حکومتی وزراء نے ان کے اس مشورے کا مذاق بنایا تھا۔





