جیفری ایپسٹین نامی بھوت سے کیسے بچا جائے

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 14, 2026364 Views


ہر دور میں سماجی تبدیلی کی کہانی میں ایک مستقل کردار سرمائے کا رہا ہے۔ نظریات، جذبہ اور قیادت اپنی جگہ اہم سہی، مگر کسی بھی بڑے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، اور وسائل کی بنیاد اکثر پیسہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مصلحین، مہم جو رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کو کسی نہ کسی شکل میں سرمایہ فراہم کرنے والوں کی ضرورت پیش آئی۔ تاہم اس تعلق کے ساتھ ایک نازک توازن بھی جڑا رہا یعنی فاصلہ۔ جب یہ فاصلہ برقرار رہتا ہے تو تعاون ثمر آور ثابت ہوتا ہے، اور جب یہ متاثر ہوتا ہے تو مفادات کے ٹکراؤ جنم لیتے ہیں۔

سرمائے دار اور سماجی تبدیلی کے داعی یعنی اقتدار میں بیٹھے افراد کے درمیان یہ فاصلہ دراصل شفافیت، جواب دہی اور حدود کے احترام کا نام ہے۔ اگر سرمایہ مقصد پر غالب آ جائے تو نظریہ کمزور پڑ جاتا ہے، اور اگر نظریہ وسائل کی حقیقت سے آنکھ چرا لے تو منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ درکار ہے جس میں نہ اندھی وابستگی ہو اور نہ ہی بے جا مداخلت۔ سماج اسی توازن کو قبول کرتا ہے جہاں سرمایہ سہارا بنے، سایہ نہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...