
جے رام رمیش نے لکھا، ’’آج جب نائب صدر کے نئے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے، ملک اس بات کی توقع کر رہا ہے کہ دھنکھڑ صاحب اپنے غیر متوقع اور اچانک استعفے پر لب کشائی کریں گے۔ ان کا استعفیٰ پارلیمانی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ رہا ہے، کیونکہ ان کا دورِ کار ابھی تقریباً دو سال باقی تھا۔‘‘
انہوں نے یاد دلایا کہ دھنکھڑ نے اپنے عہدے سے علیحدگی سے قبل کسانوں کے ساتھ حکومت کے رویے اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے رویے پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ جے رام رمیش کے مطابق، ’’انہوں نے کسانوں کی مسلسل نظراندازی اور حکومت کے تکبر سے پیدا ہونے والے خطرات پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ ایسے میں اب ان کا خاموش رہنا اور بھی معنی خیز ہو جاتا ہے۔‘‘






