جو ختم ہو کسی جگہ، یہ ایسا سلسلہ نہیں …

AhmadJunaidJ&K News urduApril 13, 2026360 Views


ہندوستانی موسیقی کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کا اتوار کو ممبئی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 92 برس کی تھیں۔ کم عمری میں گانے کا آغاز کرنے والی آشا جی اپنی تجرباتی صلاحیت اور شوخ آواز کی بدولت کئی دہائیوں تک سننے والوں کے درمیان مقبول رہیں۔ وہ بھلے ہی جسمانی طور پر ہماری دنیا میں نہیں رہیں، لیکن ان کے گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

آشا بھوسلے۔ (تصویر بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

نئی دہلی: ہندوستانی موسیقی کی لیجنڈری گلوکارہ، ’پدم وبھوشن‘آشا بھوسلے کا اتوار (12 اپریل) کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انہیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد سنیچر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

’ لوئر پریل واقع کاسا گرانڈے میں انہیں آخری دیدار کے لیے رکھا گیا ہے،جہاں لوگ انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، آشا جی یہاں رہتی تھیں۔ آخری رسومات شام 4 بجے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔

پلے بیک سنگنگ کی مشہورہستیوں میں شمار ہونے والی آشا بھوسلے کا کیریئر بے شمار یادگار گیتوں گلدستہ رہا ہے۔ موسیقی سے ان کا رشتہ بچپن ہی میں جڑ گیا تھا۔ 8 ستمبر 1933 کو پیدا ہونے والی آشا بھوسلے نے 1943 میں صرف 10 سال کی عمر میں مراٹھی فلم ’ماجھ بل‘کے لیے اپنا پہلا گانا گایا تھا۔ اس کے بعد وہ 90 سال کی عمر تک گاتی رہیں۔

سال1948میں فلم ’چنریا‘کے ذریعے آشا نے پلے بیک سنگنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے گیتا دت اور شمشاد بیگم کے ساتھ اپنا پہلا گانا’ساون آیا رے‘گایا۔ اس کے ایک سال بعد 1949 میں فلم’رات کی رانی‘سے انہیں اپنا پہلا سولو گانا ملا۔

ان کی مسحور کن آواز’نیا دور‘سے’تیسری منزل‘،’ہرے راما ہرے کرشنا‘سے’امراؤ جان‘اور’اجازت‘سے’رنگیلا‘تک… کئی نسلوں کے درمیان تازگی کا احساس کراتی رہی۔

تاہم، آشا بھوسلے کی زندگی جدوجہد سے بھری رہی۔ ان کے موسیقار والد دیناناتھ منگیشکر کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا، جب وہ صرف 9 سال کی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے 16 سال کی عمر میں اپنے سے کافی بڑے گنپت راؤ بھوسلے سے شادی کی، جو اس وقت 31 سال کے تھے۔ ازدواجی زندگی میں بھی انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

موسیقی کا سفر: او پی نیر کا ساتھ

وہیں،موسیقی کی دنیا میں، اپنی بہن لتا منگیشکر، شمشاد بیگم اور گیتا دت جیسی ہستیوں کے دبدبے والی دنیا کے درمیان آشا بھوسلے کو ابتدا میں دوسرے اور تیسرے درجے کے موسیقاروں کے ساتھ کام کرنا پڑا۔

یہ آشا کی ضد اور محنت کا نتیجہ تھا کہ انہیں 1952 میں او پی نیر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ نیر اس وقت نئے تھے اور انہوں نے تازہ اور منفرد موسیقی تخلیق کی، جو نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی۔ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ لتا منگیشکر کے ساتھ کبھی کام نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے ایک بار انہیں ٹھکرا  دیا تھا۔ ان کے بنائے ہوئے گانے آج بھی بے حد مقبول ہیں، جہاں آشا بھوسلے کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

دیگر اہم موسیقاروں میں ایس ڈی برمن، روی (روی شنکر شرما) اور اس وقت کے ابھرتے ہوئے ستارے آر ڈی برمن شامل تھے۔

سال1972 میں او پی نیر کے ساتھ ان کا تعلق ختم ہونے کے بعد انہوں نے آر ڈی برمن کے ساتھ کام کیا۔ خیام کی ہدایت میں فلم ’امراؤ جان‘میں غزل گائیکی سے انہیں بے پناہ شہرت ملی، اور اس کے لیے انہیں قومی ایوارڈ بھی ملا۔

اس وقت تک وہ 7 فلم فیئر ایوارڈز جیت چکی تھیں۔ 2000 میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔ 2008 میں انہیں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم وبھوشن سے نوازا گیا۔ 2011 میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی فنکارہ کے طور پر تسلیم کیا۔

انہیں دو گریمی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

انہوں نے مراٹھی اور بنگالی کے علاوہ کئی بھارتی زبانوں جیسے تمل، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور پنجابی میں بھی گانے گائے۔ وہ نہایت جرات مند فنکارہ تھیں۔

سال1980 اور 1990 کی دہائیوں میں انہوں نے بوائے جارج، کرونوس کوارٹیٹ اور برطانوی گروپ کارنر شاپ جیسے بین الاقوامی فنکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ حالیہ وقت تک وہ لائیو کنسرٹس میں پرفارم کرتی رہیں۔

ان کا آخری گانا’دی شیڈوئی لائٹ ‘برطانوی بینڈ گوریلاز کے ساتھ مل کر بنایا گیا تھا، جو 27 فروری 2026 کو ریلیز ہوا۔

غور طلب ہے کہ آشا بھوسلے نے اپنی محنت اور عزم سے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ ایک مکمل فنکارہ تھیں، جو ہر رنگ میں ڈھل سکتی تھیں۔ ان کی آواز زبان اور عمر کی قید سے آزاد ہو کر ہر دور میں دلوں کو چھوتی رہی۔ وہ جسمانی طور پر دنیا میں نہیں رہیں، مگر ان کی آواز کی شوخیاں اور شرارت ہمیشہ گونجتی رہے گی۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...