جن وادی لیکھ سنگھ کا مطالبہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 23, 2026360 Views


جن وادی لیکھ سنگھ نے حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے سے متعلق جاری حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  کہ یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی تمہید کی روح کے بھی خلاف ہے، جس میں کسی طرح کی تبدیلی کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نئی دہلی کے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں قومی گیت ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: جن وادی لیکھ سنگھ کے صدر دفتر نے مرکزی وزارت داخلہ سے ’وندے ماترم‘ سے متعلق حالیہ حکم کو فوراً  واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادارے  کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی تمہید کی روح کے بھی خلاف ہے، جس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا اختیار کسی کو نہیں  ہے۔

سنگھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے نے ’وندے ماترم‘ کی تخلیق 1875 میں کی تھی اور بعد میں اسے اپنے ناول ’آنند مٹھ‘ (1882) میں شامل کیا۔ اصل گیت صرف دو بندوں پر مشتمل تھا، جس میں مادر وطن کی پوجا کی گئی تھی۔ ناول میں شامل کرتے وقت اس میں مزید چار بند جوڑے گئے، جن میں دیوی درگا کی مدح کا عنصر نمایاں ہے۔ اس طرح گیت میں دو مختلف موضوعات یکجا ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ رابندرناتھ ٹیگور نے 1896 میں کانگریس کے اجلاس میں پہلی بار اصل دو بندوں والا ’وندے ماترم‘ گایا تھا۔ تحریک آزادی کے دوران یہ گیت آزادی کے متوالوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر گایا جاتا رہا۔ ابتدائی دو بندوں پر کوئی تنازعہ نہیں تھا، لیکن بعد میں شامل کیے گئے بندوں کے عوامی پروگراموں میں گائے جانے پر اعتراضات کیے جانے لگے۔

اس تنازعہ کے حل کے لیے کانگریس نے 1937 میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس، آچاریہ نریندر دیو اور مولانا آزاد شامل تھے۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے طے کیا کہ اگر کسی شخص کو گیت کے کچھ حصے قابل اعتراض لگتے ہیں، تو اسے قومی اجتماعات میں کوئی دوسرا ’غیر متنازعہ گیت‘ گانے کی آزادی ہوگی۔ رابندرناتھ ٹیگور اور مہاتما گاندھی کی حمایت سے کانگریس نے فیصلہ کیا کہ عوامی جلسوں میں صرف اصل دو بندوں والا گیت گایا جائے گا۔

دستور ساز اسمبلی نے رابندرناتھ ٹیگور کی تخلیق ’جن گن من‘ کو قومی ترانے کے طور پر قبول کیا۔ یہ بھی کئی بندوں پر مشتمل ایک طویل گیت ہے، لیکن اس کے ابتدائی حصے کو ہی قومی ترانے کے طور پر اپنایا گیا۔ ’وندے ماترم‘ کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا، مگر اسے کسی بھی موقع پر گانا لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ قومی ترانے کا گایا جانا کافی سمجھا گیا، تاہم دونوں کو مساوی احترام دیا گیا۔ دستور ساز اسمبلی نے 24 جنوری 1950 کو ’وندے ماترم‘ کے پہلے دو بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا تھا اور اس پر مکمل اتفاق تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے تیسرے دور اقتدار (2025) میں یہ الزام لگایا کہ پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے مسلمانوں کے دباؤ میں آ کر ’وندے ماترم‘ کے تمام بندوں کو قومی گیت کے طور پر قبول نہیں کیا، جو کہ حقائق کے منافی ہے۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے تحریک آزادی میں حصہ نہیں لیا اور اس دور میں ’وندے ماترم‘ کا گیت بھی نہیں گایا۔

جن وادی لیکھ سنگھ کے مطابق فروری 2026 میں وزارت داخلہ کے جاری کردہ حکم کے تحت تمام سرکاری تقاریب، تعلیمی اداروں اور بڑے عوامی پروگراموں میں قومی ترانہ ’جن گن من‘ سے پہلے ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بندوں کا گایا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

جن وادی لیکھ سنگھ نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کا یہ حکم تحریک آزادی کی وراثت اور آئین  کی روح کے خلاف ہے۔

ادارے کے مطابق، یہ دستور ساز اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور اس کے پیچھے فرقہ وارانہ نقطہ نظر کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ یہ قدم ملک کی یکجہتی کو کمزور کرنے اور مذہبی اقلیتوں کی توہین کرنے کی کوشش بھی ہے۔

سنگھ نے اس حکم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت سے اسے فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل شمال-مشرق کی بااثر طلبہ تنظیم نگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) نے بھی شدید مخالفت کی ہے۔

این ایس ایف نے 20 فروری کو جاری بیان میں کہا،’یہ ہدایت ایک سخت ترجیحی ترتیب طے کرتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے اسکولوں پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا حکم مسلط کرنا نگا معاشرے کی تاریخی، سیاسی اور ثقافتی حقیقتوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ ہم ہندوستانی آئین کے ڈھانچے، جس میں آرٹیکل 51اے(الف) بھی شامل ہے، سے واقف ہیں، لیکن ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ کوئی بھی اتھارٹی نگا سرزمین پر اس طرح کی ثقافتی یا نظریاتی پابندی عائد نہیں کر سکتی جو ہماری مخصوص تاریخ اور شناخت کو نظرانداز کرے۔‘



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...