
جیفری ایپسٹین کے معاملے پر سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں اور وہ خود کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ کیوبا کے بارے میں انہوں نے اسے ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہاں انسانی مسائل پر بات چیت جاری ہے، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سفارتی کوششیں شامل ہیں۔
ایران کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ اقدامات کے بارے میں انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی کارروائی زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے حالیہ گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تائیوان کے لیے اضافی ہتھیاروں سے متعلق فیصلہ جلد کیا جائے گا۔
جنیوا مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی، پابندیوں اور عسکری تناؤ کے سائے میں رہے ہیں، اور عالمی منظرنامے پر توانائی سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ جیسے معاملات بدستور اہمیت رکھتے ہیں۔





