جنگ سے قبل ایران جوہری پروگرام ختم کرنے پر راضی تھا، لیکن امریکہ-اسرائیل نے اچانک حملہ کر دیا، ایرانی وزیر کا انکشاف

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 5, 2026358 Views


ایران اب تک معاہدے کے تحت صرف یورینیم کی افزودگی کو کم کرنے کی بات کرتا رہا ہے، لیکن اس نے پہلی بار جوہری پروگرام کو ہی ختم کرنے کی پیشکش کے بارے میں جانکاری دی۔

ایران، تصویر آئی اے این ایسایران، تصویر آئی اے این ایس

i

user

امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر ہو رہے لگاتار حملوں نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے۔ اس درمیان ایران نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ جوہری پروگرام بند کرنے پر راضی تھا، لیکن بات چیت کے درمیان ہی حملہ کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جنگ سے قبل ایران نے امریکہ سے اپنے سبھی جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ایران نے کہا تھا کہ جوہری پروگرام بند کرنے کے بدلے امریکہ اسے متبادل تجویز مہیا کرائے گا۔ چوتھے دور کی بات چیت ہونی تھی، لیکن اس سے پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کر دیا۔ ’اسکائی نیوز عربیہ‘ کو ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے اس پیشکش سے متعلق جانکاری دی۔

واضح رہے کہ ایران اب تک معاہدے کے تحت صرف یورینیم کی افزودگی کو کم کرنے کی بات کرتا رہا ہے، لیکن اس نے پہلی بار جوہری پروگرام کو ہی ختم کرنے کی پیشکش کے بارے میں جانکاری دی۔ اب جنگ نے شدت اختیار کر لی ہے تو ایران نے بھی اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک کر رہے ہیں۔ ’سی این این‘ نے ایک سینئر امریکی افسر کے حوالے سے بتایا کہ یہ 12 ممالک مسلسل امریکہ سے رابطہ کر رہے ہیں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ فدان عمان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر مسلسل امریکہ پر دباؤ بنا رہے ہیں۔

اس سے قبل ’نیویارک ٹائمز‘ نے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے سلسلے میں خفیہ طریقے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکاف کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 460 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے۔ ایران اس کے ذریعہ 11 جوہری بم بنا سکتا ہے۔ ایران کے پاس جو یورینیم ہے وہ 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ ایک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لیے یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی حملے سے قبل ایران اور امریکہ نے پہلے عمان اور پھر جنیوا میں معاہدے کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔ امریکی ایلچی وِٹکاف کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس میٹنگ میں صرف یورینیم کی افزودگی کم کرنے کی بات کہی تھی۔ عراقچی کے ساتھ اس میٹنگ میں ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ بھی موجود تھے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے میٹنگ میں اسٹیو وِٹکاف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...