
یہ تشدد ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ اتوار کو دوبارہ کھلنے والی ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے اگلے مرحلے میں حماس کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔ تاہم جنگ بندی کے بعد سے اب تک 500 سے زائد فلسطینی اور چار اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں، جس سے امن کی امیدیں مدھم پڑ رہی ہیں۔






