
پولیس کے مطابق چیتنیانند اپنی گاڑی پر جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ نصب کر کے سفر کر رہے تھے، جس کا مقصد خود کو بااثر ظاہر کرنا اور ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حرکت دانستہ طور پر کی گئی اور اس سے قانون کی صریح خلاف ورزی ہوئی۔ عدالت نے اسے سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ تمام متعلقہ ریکارڈ اور شواہد بروقت جمع کرائے جائیں۔
چیتنیانند سرسوتی اس سے قبل 16 طالبات کے جنسی استحصال سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ وہ دہلی کے ایک تعلیمی ادارے میں چیئرمین رہے ہیں، جہاں ان طالبات نے ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی مذہبی شناخت اور عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور جنسی استحصال کیا۔ الزامات سامنے آنے کے بعد ستمبر میں انہیں آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔






