
جموں یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ سیاسیات کے نصاب سے محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال اور سر سید احمد خان کے تذکرے کو ہٹانے کی حالیہ تجویز نے ان حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے جو تعلیمی آزادی کو اہمیت دیتے ہیں اور تاریخ کے مختلف زاویوں کو مٹانے کے مخالف ہیں۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قدم اہم تاریخی بیانیوں کو ختم کرنے اور جدید ہندوستانی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ غیر معمولی تیزی سے لیا گیا—محض چار دنوں کے اندر ان ناموں کو نصاب سے ہٹانے کی سفارش کو منظوری دے دی گئی۔
یہ تنازع 20 مارچ کو اس وقت شروع ہوا جب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ’اقلیت اور قوم‘ کے پرچے میں محمد علی جناح کو شامل کیے جانے کی مخالفت کی۔ اس کے فوراً بعد جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر امیش رائے نے نصاب کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ پروفیسر نریش پاڈھا کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے ایم اے سیاسیات کے نصاب سے محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور ڈاکٹر محمد اقبال سے متعلق تمام مواد کو ہٹانے کی سفارش کر دی۔






