جموں و کشمیر پر کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی حالیہ رپورٹ میں حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ سی اے جی (کیگ) رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ 518 جھیلیں یا تو مکمل طور پر غائب ہو گئی ہیں یا اتنی خراب صورتحال میں پہنچ گئی ہیں کہ انہیں بچایا نہیں جا سکتا۔ کیگ کی رپورٹ میں جموں و کشمیر میں ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا انکشاف ہوا ہے، جس میں سروے کی گئی 697 جھیلوں میں سے 518 جھیلیں یا تو غائب ہو گئی ہیں یا خراب حالت میں پہنچ گئی ہیں۔ 1967 سے 2020 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے اس آڈٹ میں پایا گیا کہ وسیع پیمانے پر تجاوزات، شہری توسیع اور زمین کے استعمال میں تبدیلی کی وجہ سے 315 جھیلیں مکمل طور پر غائب ہو گئی ہیں۔
کیگ نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی بحران کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے، جو فوری طور پر اقدام نہ کیے جانے کی صورت میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں خاصٓ طور سے 7 آبی ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے جو سوکھ چکے ہیں، جن میں راکھِ ارتھ، سیتھر گُنڈ نمبل، مرہامہ، دیوپور سر، مہتان، چندرگر نمبل اور گلوال تالاب شامل ہیں۔ یہ تمام جھیلیں مکمل طور پر خشک ہونے کے بعد غائب ہو گئی ہیں۔ یہ خطرناک حالت کافی حد تک انسانوں کی وجہ سے ہوئی ہے، جس کی وجہ گیلی زمینوں کو زرعی، رہائشی یا تجارتی زمین میں تبدیل کرنا ہے۔ ساتھ ہی رپورٹ میں ڈَل اور وولر جیسے اہم آبی ذخائر کے تحفظ کے پروگراموں کی ناکامی کا انکشاف کیا گیا ہے، جس میں بغیر ٹریٹمنٹ کے گندا پانی اور نامزد افسران کی نا اہلی کو اہم مسائل کے طور پر بتایا گیا ہے۔
غائب ہو چکی 315 جھیلوں میں سے 235 ریونیو اور محکمہ زراعت کی دیکھ ریکھ میں تھی، جبکہ 80 کا انتظام محکمہ جنگلات کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔ صرف 6 اہم جھیلوں (ڈل، وولر، ہوکرسر، مانسبل، سرنسر اور مانسر) پر ہی توجہ دی گئی، جس کی وجہ سے بقیہ 691 جھیلوں کے لیے کوئی مناسب منصوبہ نہیں بن پایا۔ کیگ کی رپورٹ میں مستقبل میں ہونے والے نقصان کو روکنے اور ان اہم آبی ذخائر کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی اور مربوط اتھارٹی کی سفارش کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایک حالیہ سائنسی مطالعے کے مطابق ہمالیہ کے خطہ کشمیر میں واقع بلندی پر موجود 5 گلیشیئر برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے لیے انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ یہ سیلاب بادل پھٹنے جیسے شدید موسمی واقعات کے نتیجے میں آ سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































