
اقتدار سے معزولی اور جلاوطنی کے بعد 21 ستمبر 1887 کو مٹیابرج (کلکتہ) میں آخری سانس لینے تک لکھنؤ ان سے جدا رہا، مگر شہر کی فضا میں ان کی یہ سطریں آج بھی گونجتی محسوس ہوتی ہیں:
در و دیوار پہ حسرت کی نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہلِ وطن ہم تو سفر کرتے ہیں
وہ اگر پری خانہ اور رقص و موسیقی کے شوقین تھے تو انہیں سوئی تھام کر چکن کا باریک کام کرنا بھی آتا تھا اور ردیف و قافیہ جوڑ کر ’اختر‘ کے تخلص سے شاعری بھی کیا کرتے تھے۔
بلکہ بعض لوگ تو انہیں اپنے صوبے کا لیونارڈو دا ونچی قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر وہ صرف روایتی نوابی شناخت تک محدود رہتے تو نہ لکھنؤ کو وہ نزاکت و نفاست نصیب ہوتی اور نہ اس کے ادب، تہذیب اور فنون کو وہ عروج حاصل ہوتا جو آج اس کی پہچان ہے۔






