
جسٹس یشونت ورما کے خلاف مہابھیوگ کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب دہلی میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ کے ایک آؤٹ ہاؤس سے بڑی مقدار میں جلی اور ادھ جلی کرنسی برآمد ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔ اگرچہ آگ لگنے کے وقت وہ وہاں موجود نہیں تھے، تاہم بعد میں سپریم کورٹ کی جانب سے قائم تین رکنی ان ہاؤس جانچ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ نقدی پر ان کا خفیہ یا عملی کنٹرول تھا۔
اپنی عرضی میں جسٹس ورما نے بنیادی طور پر طریقۂ کار سے متعلق اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ایک ہی دن مہابھیوگ کے نوٹس دیے گئے تھے، اس لیے لوک سبھا اسپیکر کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا اور مشترکہ مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر جانچ کمیٹی تشکیل نہیں دی جا سکتی تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ ججوں (جانچ) ایکٹ کی دفعہ 3(2) کے تحت ایسی صورت میں دونوں ایوانوں کی منظوری اور اسپیکر و چیئرمین کی مشترکہ کارروائی لازمی ہے۔






