’جب لداخ مرکز کے زیر انتظام خطہ بنا تھا تو وہاں کے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں، لیکن…‘

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 26, 2025389 Views


کانگریس نے لیہہ میں ہوئے تشدد پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’6 سال قبل جب لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ بنایا گیا تھا، تب وہاں کے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں۔ لیکن آج حالات بالکل مختلف ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

مرکز کے زیر انتظام خطہ لیہہ میں گزشتہ دنوں پیش آئے تشدد کے لیے کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ بنایا گیا تھا، تو لوگوں کو بہت امیدیں تھیں، لیکن اب امیدیں ٹوٹ چکی ہیں کیونکہ انھیں صرف مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔ یہ تبصرہ جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں کیا ہے۔

اس پوسٹ میں جئے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’6 سال قبل جب لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ بنایا گیا تھا، تب وہاں کے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں۔ لیکن آج حالات بالکل مختلف ہیں۔ لوگ گہری مایوسی والی حالت میں ہیں، کیونکہ انھوں نے دیکھا ہے کہ ان کی زمین اور روزگار کے حقوق سنگین خطرے میں ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مقامی انتظامیہ اور الیکٹورل باڈیز پر پوری طرح لیفٹیننٹ گورنر اور نوکرشاہی کا کنٹرول ہے۔ آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت سیکورٹی اور منتخب لیجسلیچر سے متعلق ان کے جائز مطالبات پر صرف میٹنگیں ہوتی رہی ہیں، کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ حقیقی لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر چین کے ذریعہ جمود والی حالت کی یکطرفہ خلاف ورزی اور وزیر اعظم کے ذریعہ 19 جون 2020 کو چین کو دی گئی کلین چٹ نے شدید غیر یقینی والی حالت پیدا کر دی ہے۔ جئے رام رمیش کے مطابق ’’لداخ ہندوستان کے لیے ثقافتی، معاشی، ماحولیاتی اور اسٹریٹجک نظریہ سے انتہائی اہم ہے۔ لداخ کے لوگ ہمیشہ سے اپنی بنیاد میں فخریہ ہندوستانی رہے ہیں۔ ان کی تکلیف اور مشکلات حکومت ہند کے ضمیر کو جگانی چاہیے، نہ صرف مزید بات چیت کے لیے بلکہ ان کی جائز خواہشات کو جلد از جلد پورا کرنے کے لیے ٹھوس اور حقیقی کوششیں ہونی چاہئیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...