
مہاتما گاندھی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عدم تشدد کو کمزوری کے بجائے قوت کی علامت بنایا۔ ان کے نزدیک عدم تشدد خاموشی یا بے عملی کا نام نہیں تھا بلکہ یہ شعوری مزاحمت، اخلاقی استقامت اور سچ پر قائم رہنے کا راستہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ نفرت کے بغیر مخالفت اور انتقام کے بغیر جدوجہد ہی دیرپا تبدیلی لا سکتی ہے۔
برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں گاندھی جی کا کردار محض قیادت تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے تحریک کے پورے مزاج کو بدل دیا۔ انہوں نے عوام کو یہ شعور دیا کہ آزادی صرف اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بیداری کا عمل بھی ہے۔ عدم تعاون تحریک، سول نافرمانی اور خاص طور پر ڈانڈی مارچ اس بات کی مثال تھے کہ ریاستی جبر کے مقابلے میں عوامی ضمیر کس طرح ایک طاقت بن سکتا ہے۔ نمک جیسے روزمرہ مسئلے کو قومی وقار سے جوڑ کر انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست عام انسان کی زندگی سے کٹ کر نہیں چل سکتی۔






