’جب تک زندہ ہوں، سب سے یہی کہوں گا کہ بی جے پی کو کبھی ووٹ مت دینا‘

AhmadJunaidJ&K News urduApril 11, 2026358 Views


کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں سنٹرل مارکیٹ ٹوٹنے سے غمزدہ ایک تاجر کہتا ہے کہ ’’مودی تیرے راج میں، کٹورا آ گیا ہاتھ میں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>میرٹھ سنٹرل مارکیٹ، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>میرٹھ سنٹرل مارکیٹ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

اتر پردیش کے میرٹھ میں سنٹرل مارکیٹ کے خلاف کارروائی نے تاجروں کے ساتھ ساتھ وہاں رہائش پذیر لوگوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خواتین آہ و بکا کر رہی ہیں اور مرد اِدھر اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں تاکہ کہیں سے کوئی مدد مل جائے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ نے سبھی کی امیدیں ختم کر دیں اور اب وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس معاملے میں کانگریس نے بی جے پی حکومت پر عوام کو بے بس و مجبور چھوڑ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

کانگریس نے ایک ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے، جس میں ایک تاجر نہ صرف اپنی پریشانی بیان کر رہا ہے، بلکہ عوام سے یہ اپیل بھی کر رہا ہے کہ وہ کبھی بی جے پی کو ووٹ نہ کریں۔ وہ شخص پی ایم مودی، وزیر اعلیٰ یوگی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے راج میں ’کٹورا ہاتھ میں‘ آنے کی بات کہتا دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’مودی تیرے راج میں، کٹورا آ گیا ہاتھ میں… یہ نعرہ میرٹھ کے تاجر لگا رہے ہیں، کیونکہ سنٹرل مارکیٹ میں ان کی جمع پونجی تباہ کی جا رہی ہے۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’تاجروں کا کہنا ہے– ہم بی جے پی کی تشہیر کرتے تھے۔ لیکن جب تک زندہ ہوں، سب سے یہی کہوں گا کہ بی جے پی کو کبھی ووٹ مت دینا۔ بی جے پی کے لوگ جھوٹے ہیں۔‘‘ اس ویڈیو میں پریشان حال تاجر بتاتا ہے کہ اس کی دوپٹے کی دکان تھی جس میں سیل لگا دیا گیا ہے۔ اب اس کے پاس ای ایم آئی بھرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ میرٹھ کے شاستری نگر واقع سنٹرل مارکیٹ کی دکانیں توڑے جانے سے ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ یہاں تاجر طبقہ عوامی نمائندوں اور رہائش ڈیولپمنٹ سے منسلک افسران کے خلاف مستقل مظاہرے کر رہے ہیں۔ تاجروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے قصوروار افسران پر بے حد ہلکی دفعات لگائی ہیں اور مہینوں گزرنے کے بعد بھی کوئی سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ تاجر یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ بازار غیر قانونی تھا تو 35 سال تک افسران کیا کر رہے تھے؟ وہ میڈیا والوں کو بتاتے پھر رہے ہیں کہ گزشتہ 35-30 سالوں سے سخت محنت و مشقت کر اس بازار کو کھڑا کیا گیا۔ ان کی پوری زندگی بازار کو بسانے میں نکل گئی، اور اب اچانک ان کی دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔ تاجروں نے سوال کیا کہ اگر یہ سب غیر قانونی تھا تو رہائش و ڈیولپمنٹ کونسل کے افسران نے شروع میں ہی کارروائی کیوں نہیں کی۔ سبھی تاجروں نے قصوروار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سنٹرل مارکیٹ میں خوابوں کے کئی ایسے آشیانے ہیں جنھیں مالکان خود اپنے ہاتھوں سے توڑ رہے ہیں اور آنسو بہا رہے ہیں۔ ایک دکان کے مالک نے کہا کہ اپنے ہی خوابوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے توڑنا کسی خوفناک حادثہ سے کم نہیں ہے۔ ان دنوں بازار کی گلیوں میں ہتھوڑوں کی گونج صاف سنائی دے رہی ہے، جو اینٹ اور پتھروں کی عمارتوں کے ساتھ ساتھ تاجروں کے دل اور امیدیں بھی توڑ رہی ہے۔

واضح رہے کہ رہائش و ڈیولپمنٹ کونسل کی طرف سے شاستری نگر اسکیم نمبر 7 کی 859 جائیدادوں کی فہرست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ اسکیم کے تحت یہ جائیدادیں رہائشی ہیں، لیکن ان کا کاروباری استعمال ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ کے حکم پر رہائش ڈیولپمنٹ نے 44 عمارتوں کو سیل کر دیا تھا۔ پھر جمعرات کو سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے سبھی 859 جائیدادوں پر بنے ناجائز سیٹ بیک، یعنی عمارتوں کی چاروں جانب چھوڑی جانے والی لازمی خالی جگہ میں ہوئی تعمیرات کو 2 ماہ کے اندر توڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاجروں نے بھاری من سے خود ہی انہدامی کارروائی شروع کر دی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...