اگر کسی ریاست میں بی جے پی کی حکومت نہ ہو تو بعض اوقات مرکز آفت کو آفت ماننے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ مغربی بنگال کے شمالی حصے میں پچھلے سال آنے والے سیلاب میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے مگر مرکز نے یہ کہہ کر امداد سے انکار کر دیا کہ یہ قدرتی نہیں بلکہ انسانی ساختہ آفت ہے۔ بعد میں سیلابی انتظام کے لیے رقم تو دی گئی مگر متاثرین کو براہِ راست کوئی مدد نہیں ملی۔
اسی طرح تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، تلنگانہ اور جھارکھنڈ جیسے کئی ریاستوں میں بھی امتیازی رویّے کی مثالیں ملتی ہیں۔ اکتوبر میں کیرالہ ہائی کورٹ نے وائناڈ کے آفت زدگان کے قرض معاف نہ کرنے پر مرکز پر سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ کم شدت والی آفات میں آسام اور گجرات کو فوری مدد ملی، جو امتیاز کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور یاد دلایا کہ وفاقی نظام میں ایسے رویے کی گنجائش نہیں۔
قدرتی آفت یہ نہیں دیکھتی کہ ریاست میں کون سی پارٹی کی حکومت ہے۔ حکومت کو بھی ایسا ہی غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ اگر ملک کو اپنی وفاقی روح برقرار رکھنی ہے تو آفت سے نمٹنے کے لیے امداد کو سیاسی فائدے کے بجائے آئینی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔






