عدالت عظمیٰ نے منی پور تشدد سے متعلق تفتیش اور نگرانی کے معاملات کے ایک گروپ کی سماعت کی، جس میں اس نے اگست 2023 میں تشکیل دی گئی عدالت کی مقررہ نگرانی کمیٹی کے اراکین کو سفر اور کام سے متعلق اخراجات کی ادائیگی نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بنچ کی صدارت کر رہے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ گیتا متل کی سربراہی والی کمیٹی کے اراکین کو گزشتہ 2 برسوں سے مسلسل کام کرنے کے باوجود کسی بھی قسم کی تلافی (ری ایمبرسمنٹ) کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
اس معاملہ کی سماعت کے دوران عبوری اقدام کے طور پر عدالت نے کمیٹی کے تینوں اراکین میں سے ہر ایک کو 10 لاکھ روپے جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ اعزازیہ بعد میں الگ سے طے کیا جائے گا اور یہ ہدایت صرف فوری اخراجات پورے کرنے کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے چند اہم نئے احکامات جاری کرتے ہوئے سی بی آئی اور منی پور ایس آئی ٹی سے کہا کہ وہ 2023 کے منی پور نسلی تشدد کے معاملوں میں داخل کردہ فرد جرم کی کاپیاں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو فراہم کریں۔ یہ ہدایات مہاراشٹر کے سابق پولیس چیف دتاتریے پڑسالگیکر کی بارہویں اسٹیٹس رپورٹ دیکھنے کے بعد جاری کی گئیں، جنہیں منی پور میں فوجداری مقدمات کی تفتیش کی نگرانی سونپی گئی تھی۔
پڑسالگیکر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سی بی آئی نے تشدد کے 20 معاملات میں خصوصی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے، جبکہ مزید 6 ایف آئی آر میں تفتیش جاری ہے جو آئندہ 6 ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باقچی اور جسٹس وپُل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ باقی تشدد کے معاملات میں تفتیش مقررہ مدت میں مکمل کی جائے اور فرد جرم داخل کی جائیں۔ سینئر وکیل ورندا گروور کی اس مضبوط دلیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو مقدمات کے مستقبل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، چیف جسٹس نے سی بی آئی اور ریاستی پولیس کی ایس آئی ٹی سے کہا کہ وہ فرد جرم کی کاپیاں متاثرہ افراد کے ساتھ شیئر کریں۔
بنچ نے منی پور اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (ایس ایل ایس اے) کو ہدایت دی کہ وہ مقدمات کے ٹرائل کے لیے گوہاٹی جانے والے لیگل ایڈ وکلاء کے آنے جانے اور قیام کے اخراجات برداشت کرے۔ عدالت عظمیٰ پہلے ہی مقدمات کو منی پور سے آسام منتقل کر چکی تھی۔ اس نے لیگل سروسز اتھارٹی سے یہ بھی کہا کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ایک رکن کے لیے گوہاٹی آنے جانے اور قیام کے اخراجات برداشت کیے جائیں، تاکہ وہ مقدمات میں شرکت کر سکیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































