تہران پر بمباری جاری، ٹرمپ نے توانائی تنصیبات پر حملے 10دن مؤخر کرنے کا اعلان کیا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 27, 2026357 Views


ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 28واں دن بھی بمباری کے ساتھ جاری ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن مؤخر کرنے کی بات کہی ہے، جبکہ امن مذاکرات کے دعوے جاری ہیں۔ ایران نے امریکی ’امن تجویز‘ کو ’یکطرفہ اور غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔

تہران، 23 مارچ 2026: امریکہ-اسرائیل حملوں میں تباہ شدہ عمارت پر امدادی اور بچاؤ کا کام کرتے لوگ۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ-اسرائیل کے حملوں کا سلسلہ 28ویں دن بھی جاری ہے۔ جمعہ کے روز تہران کے اندر تک حملوں کی خبریں سامنے آئیں، جبکہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بھی دھوئیں کے غبار دیکھے گئے۔ زمینی حالات یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ تنازعہ رکنے کے بجائے اور پھیلتا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ’تہران کے دل‘ میں حملوں کی ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے لبنان میں دریائے لیتانی کے جنوب تک کنٹرول بڑھانے کے ارادے سے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔ اس پیش رفت نے علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اس دوران، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی مراکز پر حملے 10 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 اپریل تک حملوں پر روک رہے گی اور اس دوران بات چیت جاری ہے ۔ تاہم، ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت میں شامل نہیں ہے۔

رائٹرز کے ایرانی ذرائع کے مطابق، امریکہ کی جانب سے بھیجی گئی امن تجویز ’یکطرفہ اور غیر منصفانہ‘ ہے۔ وہیں،پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد، ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر اثرات، عالمی رسد کابحران

جنگ کے اثرات عالمی سپلائی چین پر بھی واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے۔ یہ راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور تقریباً ایک تہائی کھاد کی تجارت کے لیے اہم ہے۔

اس کا براہ راست اثر نائٹروجن اور فاسفیٹ جیسی کھادوں پر پڑا ہے۔ خصوصی طور پر یوریا کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جو فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، عالمی یوریا تجارت کا تقریباً 30 فیصد اس بحران کی زد میں آ چکا ہے، جس سے کئی ممالک میں کھاد کے بحران  کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بڑھتا ہوا انسانی بحران

الجزیرہ کے مطابق، ایران میں 28 فروری سے اب تک امریکہ-اسرائیل حملوں میں کم از کم 1,937 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 24,800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 1,100 سے زائد افراد کی جان جا چکی ہے، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ اسرائیل میں بھی ایرانی حملوں کے نتیجے میں 19 افراد کی ہلاکت اور ہزاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ عراق، بحرین، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بھی اس جنگ کے اثرات دیکھے گئے ہیں، جہاں حملوں اور جوابی کارروائیوں میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سفارتی تعطل برقرار

ایک طرف امریکہ مذاکرات کے ذریعے حل کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ ایران مسلسل ان دعووں کو مسترد کرتا آ رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی سے متعلق امور پر کسی دباؤ میں سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مجموعی طور پر، 28ویں دن بھی صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ مسلسل حملے، بڑھتا ہوا انسانی بحران اور عالمی رسد پر پڑنے والے اثرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...