تعلیم کے لیے ’آن لائن موڈ‘ کو موزوں نہیں سمجھتے پونا کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 21, 2026362 Views


ڈاکٹر ابرار احمد کے مطابق کورونا بحران میں آن لائن تدریس کے دوران انھیں کئی بار ایسا تجربہ ہوا کہ ظاہری طور پر وہ بچوں کو پڑھا رہے تھے، لیکن حقیقی معنوں میں وہ موجود ہی نہیں تھے۔

<div class="paragraphs"><p>پونا کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس میں شعبۂ اردو سے منسلک ڈاکٹر ابرار احمد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے</p></div><div class="paragraphs"><p>پونا کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس میں شعبۂ اردو سے منسلک ڈاکٹر ابرار احمد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے</p></div>

i

user

ڈاکٹر ابرار احمد کا مختصر تعارف

ڈاکٹرابرار احمد کا تعلق صوبہ اتر پردیش کی مردم خیز سرزمین اعظم گڑھ سے ہے۔ ان کی پیدائش 10اپریل 1984 کو اساڑھا نامی گاؤں میں ہوئی۔ والد کا نام بسم اللہ اور والدہ کا نام ستار النسا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم ہندوستان کے مشہور دینی درسگاہ مدرستہ الاصلاح سرائے میر سے ہوئی۔ بی اے کی ڈگری  یونیورسٹی آف لکھنؤ سے اور بی ایڈ کی ڈگری جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد ہندوستان کی ممتاز یونیورسٹی جے این یو (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) کا رخ کیا جہاں سے انھوں نے  ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ جون 2016 سے ’پونا کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس‘، پونے کے شعبۂ اردو میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ کالج ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی سے ملحق ہے۔ ڈاکٹر ابرار احمد کے متعدد تحقیقی و تنقیدی مقالات اردو کے مؤقر رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ انتظار حسین کے سوانحی و ادبی کوائف اور افسانوں پر ان کی ایک اہم تنقیدی کتاب ’انتظار حسین کی افسانہ نگاری‘ دہلی سے 2020 میں شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہے۔ انھیں ادب اظفال سے بھی والہانہ لگاؤ ہے۔ ان کی درجنوں بچوں کی کہانیاں ماہنامہ ’امنگ‘، ’اردو دنیا‘ اور ’بچوں کی دنیا‘ میں شائع ہو کر داد تحسین حاصل کر چکی ہیں۔

————————————————

ساوتری بائی پھولے کالج کی مختصر تاریخ بتائیں، اس کالج میں اُردو کا شعبہ کتنا فعال ہے؟

’پونا کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس‘ کا قیام 1970 میں ہوا اور ابتدائی دنوں سے ہی ’شعبۂ اردو‘ فعال ہے۔ شعبۂ اردو میں پی جی سطح تک اور فارسی و عربی میں یو جی سطح تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ دراصل اردو، فارسی و عربی تینوں زبانوں کا یہ مشترک شعبہ ہے جسے ’شعبۂ اردو، فارسی و عربی‘ کہتے ہیں۔ یہ شعبہ پونہ شہر کا واحد شعبہ ہے جہاں پر فارسی کو بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ اس شعبہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں تدریسی عملہ ملک کی اعلیٰ ترین جامعات، مثلاً جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں۔

شعبۂ اُردو میں طلبا و طالبات کی تعداد کتنی ہے اور اُردو کے تئیں ان کا رجحان کیسا ہے؟

فی الوقت  بی اے اور ایم اے ملا کر شعبۂ اردو میں تقریباً 350 طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں طالبات کی تعداد تقریباً 70 فیصد ہوگی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے میں کافی آگے ہیں۔ جہاں تک اُردو کے تئیں ان کے رجحان کا سوال ہے، طلبا و طالبات سبھی سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شعبہ انھیں کئی طرح کی سرگرمیوں میں مصروف رکھتا ہے۔ پونا کالج کا شعبۂ اردو قومی و صوبائی سطح پر سمینار، ورکشاپ، کانفرنس اور نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں تواتر کے ساتھ منعقد کرتا رہتا ہے، جو طلبا و طالبات کو ذہین بناتا ہے اور ان کے اندر موجود خوبیوں کو نکھارتا ہے۔ بچوں کی تقریری، تحریری، تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے شعبۂ اردو میں ’انجمن بزم ادب‘ بھی ہے، جس کے تحت ہر ماہ ادبی تقاریب منعقد کیے جاتے ہیں۔ اردو کے طلبا و طالبات اکثر ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز کے تقریری و تحریری مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں اور انعامات و اعزازات سے سرفراز ہوتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پونا کالج کا شعبۂ اردو بے حد فعال اور متحرک ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ساہتیہ اکادمی (نئی دہلی) اور یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی ناسک کے اشتراک سے منعقدہ نیشنل سمپوزیم کا منظر</p></div><div class="paragraphs"><p>ساہتیہ اکادمی (نئی دہلی) اور یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی ناسک کے اشتراک سے منعقدہ نیشنل سمپوزیم کا منظر</p></div>

ساہتیہ اکادمی (نئی دہلی) اور یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی ناسک کے اشتراک سے منعقدہ نیشنل سمپوزیم کا منظر

آپ نے کورونا کا دور دیکھا ہے، جب کلاسز ’آن لائن‘ لیے جا رہے تھے۔ اس وبا نے تدریسی شعبہ اور طلبا پر کیا اثرات مرتب کیے؟

کورونا کے دوران اساتذہ اور طلبا دونوں ہی ایک ذہنی اور نفسیاتی کرب سے دو چار تھے۔ ایسے میں بچوں کو آن لائن تعلیم دینا اساتذہ کے لیے ایک چیلنچ تھا، لیکن انھوں نے مشکل حالات کو سمجھا اور طلبا کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے خود بھی محنت کی اور طلبا کا بھی حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ ابتدا میں آن لائن کلاسز انتہائی صبر آزما تھے، کیونکہ کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آن لائن تدریس میں ہمیں کئی بار ایسا تجربہ ہوا کہ ظاہری طور پر ہم بچوں کو پڑھا رہے تھے، لیکن حقیقی معنوں میں وہ موجود ہی نہیں تھے۔ یعنی طالب علم کا نام اسکرین پر نظر ضرور آتا تھا، لیکن جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا تو اس کا فوراً کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔ بچے اکثر کمزور نیٹورک کا حوالہ دے کر اپنے فون کو ’میوٹ‘ کر دیتے تھے۔ اس سے یہی نتیجہ نکلا کہ تعلیم کے لیے جس طرح کی یکسوئی چاہیے، وہ آن لائن  موڈ میں ممکن نہیں ہے۔ بالخصوص ان طلبا کے لیے، جو موبائل ہاتھ میں ہونے پر الگ الگ طرح کے پروگرام دیکھنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم کے تئیں سنجیدہ طلبا و طالبات نے اس مشکل دور میں بھی اپنا وقت ضائع نہیں کیا اور آن لائن کلاسز سے فائدہ اٹھایا۔

ساوتری بائی پھولے کالج میں آپ گزشتہ 9 سالوں سے تدریسی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اس درمیان آپ کو کئی طرح کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ مختصراً کچھ اہم مسائل کے بارے میں بتائیں۔

پونا کالج میں تکنیکی طور پر تو کسی طرح کا مسئلہ سامنے نہیں آیا، لیکن مجھے تعلیم کا روایتی طریقہ پسند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے طلبا کو کچھ الگ طرح سے تعلیم دینا پسند کرتا ہوں۔ دراصل ہندوستان کی بیشتر یونیورسٹیوں اور کالجز میں روایتی تدریس ہو رہی ہے، جہاں اساتذہ کلاس میں آتے ہیں، نصاب کی تکمیل کرتے ہیں، بچوں کو نوٹس تحریر کراتے ہیں، اور بس یہی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس طرح بچے امتحان میں اچھے نمبرات ضرور حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ان کی صلاحیتوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ میں نے اس کے برعکس بچوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے کلاس میں ہی کہانیوں کے تجزیے، کتابوں پر تبصرے اور ایک ہی موضوع پر متعدد مضامین کو پڑھ کر ایک نیا مضمون تحریر کرنے کی مشق کرائی۔ اس سے طلبا و طالبات کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا۔ ان کے اندر ایک نئی سوچ اور فکر پیدا ہوئی، جس نے ان کی تحریری صلاحیتوں کو نکھارا۔

انٹرویو: تعلیم کے لیے ’آن لائن موڈ‘ کو موزوں نہیں سمجھتے پونا کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمدانٹرویو: تعلیم کے لیے ’آن لائن موڈ‘ کو موزوں نہیں سمجھتے پونا کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد

آپ نے کچھ نصابی کتابیں بھی تیار کی ہیں، اُن سے متعلق کچھ بتائیں۔ ’قومی آواز‘ کے قارئین کو اپنی ادبی دلچسپیوں سے بھی روشناس کریں۔

میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے یونیورسٹیوں کے ایم اے اور بی اے سطح کی نصابی کتابوں کو تیار کرنے کا موقع میسر ہوا۔ یشونت راؤ چوہان اوپن یونیورسٹی، ناسک (مہاراشٹر) کے ایم اے اردو کی کتاب ’مہاراشٹر میں اردو نظم‘ میں نے تیار کی ہے، جسے طلبا و اساتذہ کے ساتھ ساتھ عام قاری نے بھی بہت پسند کیا۔ اسی طرح ’اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی‘ (اگنو، نئی دہلی) کے ایم اے اردو کی 2 یونٹ بھی میری کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ایک ’قرۃ العین حیدر کا رپورتاژ ’دکن سا نہیں ٹھار سنسارمیں‘ کا خصوصی مطالعہ‘ اور دوسری شفیق فاطمہ شعریٰ کی نظموں کا تجزیہ۔ جہاں تک میری ادبی دلچسپیوں کا سوال ہے، افسانہ نگاری سے مجھے بے حد دلچسپی ہے۔ خاص طور سے میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھتا رہتا ہوں جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ عنقریب میرا افسانوی مجموعہ منظر عام پر بھی آئے گا، ان شاء اللہ۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...