
تعلیم اور صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مضبوط کیے بغیر آدیواسی اور غریب طبقات کے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں مل سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو سرکاری اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔
اپنی تقریر کے آخری حصے میں راہل گاندھی نے بین الاقوامی اور قومی سیاست پر بھی بات کی اور الزام لگایا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس کا براہ راست اثر غریب اور آدیواسی طبقات پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہی دستاویز آدیواسیوں، غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ایک واضح منشور کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ مستقبل میں انہیں برابری کا حق مل سکے۔





