
بتادیں کہ جی ایس پی ایک اسکیم ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک اپنی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ترقی پذیر ممالک سے منتخب اشیا پر کم یا صفر ٹیرف لگاتے ہیں۔ وزارت تجارت اور صنعت کا کہنا ہے کہ 2016 سے یورپی یونین ہندوستانی اشیاء کو جی ایس پی فوائد سے بتدریج خارج کرتی آرہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب اس اسکیم کے تحت زرعی مصنوعات اور لیدر سمیت 13 فیصد ہندوستانی برآمدات کو ہی فائدہ ملے گا۔ مالی سال 2025 سے ہندوستان سے ای یو کو بھیجے جانے والے تقریباً 47 فیصد (35.6 ارب ڈالر) سامان ابھی بھی جی ایس پی جوائدے کے دائرے میں آتے ہیں۔ جبکہ ایکسپورٹ کا 53 فیصد (40.2 ارب ڈالر) ابھی بھی جی ایس پی کے تحت آتا ہے۔





