تاریخ شاہد ہے کہ اسرائیل امن کا دشمن اور دہشت گردی کا حامی ہے…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduApril 12, 2026358 Views


برطانیہ نے دنیا بھر کے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں بسایا اور ان کی ایک پرائیویٹ فوج بنوائی۔ اقوام متحدہ کے ذریعے ان کو فلسطین کا 65 فیصد علاقہ دلوا دیا گیا۔ یہودیوں نے 1948 کی خانہ جنگی میں فلسطین کے 87 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا۔ پھر 1967 میں اس قبضے کو اور توسیع دی گئی۔ اسرائیل اور پی ایل او کے رہنما یاسر عرفات کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینیوں نے صرف 22 فیصد علاقے میں اپنی حکومت بنانے کی بات قبول کر لی۔ لیکن اسرائیل عملاً اس کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔ اسرائیلی ہٹ دھرمی کے خلاف فلسطینیوں نے مزاحمت شروع کر دی۔ ادھر اسرائیل نے فلسطین کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا۔

انتخابات کے نتیجے میں مزاحمتی گروپ حماس نے غزہ میں کامیابی حاصل کی اور اپنی حکومت قائم کی۔ جبکہ مغربی پٹی پر محمود عباس کے الفتح گروپ نے حکومت بنائی۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی اگر کوئی گروپ انتخابات کی بنیاد پر بر سر اقتدار آتا ہے تو اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن مغربی طاقتوں نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ ایک مزاحمتی تحریک ہے۔ ادھر اسرائیل نے فلسطینیوں پر اپنے مظالم کی انتہا کر دی۔ ان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ جس نے بھی آواز اٹھائی اسے جیل میں ڈال دیا گیا جہاں اذیت کی انتہا ہونے لگی۔ غرضیکہ فلسطینیوں کا جینا دوبھر ہو گیا۔ مجبور ہو کر حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک منظم حملہ کر دیا۔ اس حملے کے پیچھے اسرائیلی ظلم و بربریت کی ایک لمبی داستان ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...