
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’’یہ عرضی پہلے ہائی کورٹ نے بھی خارج کی تھی۔ ہائی کورٹ کو عرضی گزار سے وقت برباد کرنے کے لیے بھاری جرمانہ وصول کرنا چاہیے تھا۔‘‘ اس کے بعد بنچ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے عرضی گزار پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کی بات کہی۔ حالانکہ عدالت نے عرضی گزار کے وکیل کی درخواست پر جرمانے کا حکم واپس لے لیا۔






