
جیتو پٹواری کے مطابق بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے سے بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوئے اور کئی افراد کی جان چلی گئی۔ سرکاری طور پر اموات کی تعداد چار بتائی جا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد دس سے زیادہ ہے۔ پٹواری نے الزام لگایا کہ حکومت اصل تعداد کو چھپا رہی ہے تاکہ انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔
کانگریس صدر نے چھندواڑہ میں زہریلا کھانسی کا شربت پینے سے بچوں کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں بھی ذمہ داروں کو سزا نہیں ملی۔ ان کے مطابق جب بچوں کی جان بچانے والی دوا ہی جان لے لے اور کسی پر کارروائی نہ ہو تو یہی پیغام جاتا ہے کہ نظام میں جواب دہی ختم ہو چکی ہے۔ پٹواری نے کہا کہ اندور کا معاملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔






