انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں فیس میں 20 فیصد تک کا اضافہ نہ صرف مالی بوجھ ہے بلکہ ذہنی اذیت کا باعث بھی ہے۔ سال 2025 میں طلبہ سے ترقیاتی فنڈ اور دیگر سہولیات کے مد میں 1500-1500 روپے یعنی کل 3000 روپے اضافی لیے جا رہے ہیں۔ اس کا اثر سب سے زیادہ دلت، پسماندہ طبقے، خواتین، اقلیتوں اور کسان و مزدور خاندانوں کے بچوں پر پڑے گا۔
دیویندر یادو نے مزید کہا کہ بی جے پی تعلیم کو نجی ہاتھوں میں دے کر عام انسان سے دور کرنا چاہتی ہے۔ پہلے ہی پرائیویٹ اداروں کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ غریب بچوں کا وہاں تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اب دہلی یونیورسٹی میں مسلسل فیس بڑھا کر وہی سازش دہرا رہی ہے۔