
دوسری جانب یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ہاسٹل کے باہر ایک طالب علم کو گاڑی نے ٹکر مار دی تھی، جس سے ناراض طلبہ نے وائس چانسلر کی رہائش کے باہر دھرنا شروع کیا۔ اسی دوران ہنگامہ بڑھا اور مختلف مقامات پر پتھراؤ شروع ہو گیا۔ مشتعل طلبہ نے ایل ڈی گیسٹ ہاؤس کے قریب رکھے درجنوں گملے توڑ دیے، متعدد کرسیاں بھی توڑ ڈالیں اور ’کاشی تمل سنگمم‘ سے متعلق کئی بینر اور پوسٹر بھی پھاڑ دیے۔
ہنگامہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا، جس میں طلبہ، سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کے کئی جوان زخمی ہوئے۔ پتھراؤ اور دھکم پیل کے باعث کیمپس میں بھاری افراتفری پھیل گئی اور متعدد مقامات پر اندھیرا اور شور و غل کے باعث صورت حال مزید سنگین دکھائی دی۔





