کیمپ ڈیوڈ معاہدہ مصر کے حق میں تو بہتر رہا ہے، اسے صحرا سینا واپس مل گیا مگر جمال عبد الناصر نے جس مصر کو عرب ملکوں کا لیڈر بنا دیا تھا وہ مصر عربوں میں ہی الگ تھلگ پڑ گیا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرنے والے مصر کے صدر انور سادات کو مصری فوجیوں نے ہی بھری پریڈ میں موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن تب تک مصری فوج میں پہلے سے ہی موجود امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ مضبوط ہو گئے تھے۔ حسنی مبارک کی شکل میں اسی ایک ایجنٹ نے مصر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ فلسطین کی جو لڑائی اب تک عربوں کا ایک متحدہ محاذ لڑ رہا تھا وہ صرف فلسطینیوں کی ہی لڑائی رہ گئی۔ عرب ممالک ایک طرف تو فلسطینی مزاحمتی تحریک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور اس کے لیڈر یاسر عرفات کو مالی، سفارتی اور اخلاقی مدد تو دیتے رہے، دوسری جانب اسرائیل سے بھی رشتے ہموار کر لئے۔ مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات وغیرہ نے اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی رشتے بھی قائم کر لئے۔
اسی دوران سعودی عرب کے شاہ خالد مرحوم نے اس مسئلہ کے حل کے لئے دو مملکتی فارمولہ پیش کر دیا جس کی رو سے اگر اسرائیل سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقہ خالی کر دے اور وہاں ایک آزاد خود مختار فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کی راجدھانی یروشلم ہو تو عرب ملک نہ صرف اسرائیل کو اس کی ان سرحدوں کے اندر تسلیم کر لیں گے بلکہ اس سے ہر طرح کے رشتے بھی استوار کر لیں گے اور اس کے تحفظ کی گارنٹی بھی دیں گے۔





