بہار کے 42 اراکین اسمبلی کو پٹنہ ہائی کورٹ نے بھیجا نوٹس، اسمبلی رکنیت پر خطرہ لاحق

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 19, 2026359 Views


الزام ہے کہ 42 اراکین اسمبلی نے نامزدگی کے دوران جو حلف نامہ داخل کیا تھا، اس میں کئی باتیں چھپائی گئی تھیں۔ اتنا ہی نہیں، کچھ اراکین اسمبلی پر ووٹنگ کے عمل میں بے ضابطگی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

پٹنہ ہائی کورٹپٹنہ ہائی کورٹ

i

user

بہار اسمبلی کے 42 اراکین کو پٹنہ ہائی کورٹ نے نوٹس بھیجا ہے، جس سے سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ ان سبھی پر انتخاب کے دوران پیش کردہ حلف نامہ میں جانکاری چھپانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جن 42 اراکین اسمبلی کو ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے، ان میں حزب اقتدار کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے بھی لیڈران شامل ہیں۔

42 اراکین اسمبلی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نامزدگی کے دوران جو حلف نامہ بھرا تھا، ان میں کئی باتیں چھپائی گئی تھیں۔ اتنا ہی نہیں، کچھ اراکین اسمبلی پر ووٹنگ عمل میں بے ضابطگی پیدا کرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ کچھ ماہ قبل انتخاب ہارنے والے امیدواروں نے اس بارے میں عرضی داخل کی تھی۔ آج عدالت میں اس عرضی پر سماعت ہوئی۔ بعد ازاں عدالت نے 42 اراکین اسمبلی کو نوٹس جاری کر تحریری جواب دینے کو کہا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس فہرست میں اسمبلی اسپیکر پریم کمار کا بھی نام شامل ہے۔ ان کے علاوہ وزیر وجیندر یادو، سابق وزیر جیویش مشرا، جنتا دل یو رکن اسمبلی چیتن آنند، آر جے ڈی رکن اسمبلی امریندر پرساد کے نام بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نامزدگی کے دوران داخل کیا گیا حلف نامہ جمہوری نظام کا اہم حصہ ہے۔ ووٹرس کو امیدواروں کے پس منظر، ملکیت اور دیگر تفصیلات کی درست جانکاری ملنی چاہیے۔ اگر یہ جانکاری غلط دی گئی ہے تو یہ سنگین بات ہے۔ سبھی اراکین اسمبلی طے وقت کے اندر اپنا جواب دیں۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...